نئی دہلی، 16؍ستمبر(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )عام آدمی پارٹی نے آج شہر میں مشتبہ گؤ رکشکو ں کی طرف سے مدرسے کے ایک استاد سمیت تین لوگوں پر حملے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے ملوث ہونے کا الزام لگایا اور قومی اقلیتی کمیشن کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا۔پارٹی نے کہا کہ بیرونی دہلی کے کانجھاولا میں 14؍ستمبر کوپیش آئے واقعہ اور ایسے ہی دیگر واقعات کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی اپیل کے کھوکھلے پن کو بتاتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ یہ صرف لفاظی ہے۔کراڑی سے رکن اسمبلی رتوراج گووند نے قومی اقلیتی کمیشن کو لکھا کہ متاثرین کو بری طرح پیٹنے والے ملزمان نے اپنی شناخت گؤ رکشکو ں کے طور پربتائی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر اس واقعہ کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے لکھاکہ مسلم کمیونٹی اس واقعہ سے بہت ناراض ہے اور علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے ، کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے سیاسی تحفظ کے بغیر اس طرح کے واقعات ناممکن ہیں۔آپ کے دہلی کنوینر دلیپ پانڈے نے کہا کہ ہتھیاروں کے ساتھ جرم اور گؤ رکشا کے نام پر لوگوں کو پیٹنا وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے جو ملک کے لیے اچھا نہیں ہے۔پانڈے نے کہاکہ وزیر اعظم مودی نے کہا تھا کہ اگر آپ چاہیں تو مجھے گولی مار دیں ، کیا وہ ڈرامہ تھا؟ یہ ایک اور جملہ نکلا۔غور طلب ہے کہ ایک نابالغ سمیت تین لوگوں کو کچھ لوگوں کے گروپ نے مبینہ طور پر اس وقت مارا پیٹا تھا جب وہ کنجھاولا علاقے میں بقرعید کے بعد جانوروں کے جسم کے اعضاء کو پھینکنے جا رہے تھے۔